Wednesday, 27 August 2014

ہم ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔اور نائی۔۔۔

تو چلیے جی بات کرنی تھی نائیوں کی جی ہاں انیس الرحمن بھائی کے محبوب ترین پیشے کی۔۔۔۔ویسے شہروں میں آ کر یہ لوگ حجام اور ہئیر ڈریسر اور اس طرح کے کئی نام سجائے دُکانوں میں بیٹھ گئے ہیں۔۔۔۔لیکن گاؤں میں آج بھی نائی گھروں میں ہی آ تے ہیں اور خوشی غمی پر کھانے بھی وہی پکاتے ہیں۔۔شہروں کا حساب اور ہے۔شیشوں اور برقی قمقوں سے چمکتی دُکانیں ، اند ر ٹی وی ، اے سی، اور یو پی ایس کے انتظام کے ساتھ بہت ہی شاندار قسم کی دُکانیں ہیں۔
تو ایسے میں یہ لوگوں کے گھروں میں جا کر تھوڑی نہ کھانا بنائیں گے سو اسی لئے یہ کاروبار بھی الگ ہوا چاہتا ۔۔۔اور آپ نے پکی پکائی اور تیارشدہ دیگوں کاتو پڑھا ہی ہوگا ہر دوسرے چوک میں ایسے کسی ایک آدھے بورڈ پر نظر پڑ ہی جاتی ہے۔۔
اس کاروبار کا ایک اہم نقطہ یہ ہےکہ جتنا بڑا اور مشہور شہر ، اُسی حساب سے اِ ن کی بھی فیس۔۔۔۔۔۔۔یعنی جو کام گاؤں میں مفت(کم از کم میرے لئے ) ہوتا تھا ۔قصبے میں بیس سے تیس روپے میں وہ بڑے شہروں میں سو سے لے کر ہزاروں روپوں تک میں ہو رہا ہے۔سو اس لئے کہا کہ بڑے شہروں میں بھی آپ کو ایک عمر رسیدہ شخص کسی درخت کے ساتھ شیشہ لٹکائے سامنے کرسی رکھے نظر آ ہی جاتا ہے۔۔
ایک اور بات یہ کہ جس قدر آبادی بڑھ رہی ہے اسی قدر نائیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔بالکہ اگر آبادی نہ بھی بڑھے تو بھی نائیوں میں اضافہ ہو۔چلو قصے تو بڑے سنانے آتے ہیں ناں ایک اور قصہ سُن لو دوستو۔بچپن ۔نرالا بچپن سبھی کچھ تو لاڈلا سا ہوتا تھا۔دوستوں کے ساتھ ادھر اُدھر کسی نہ کسی بیٹھک میں باتیں سُنتے رہنا ۔ قبرستاں کے پاس گاؤں کا واحد پرائمری اسکول ہے۔اُسی چوک میں دھنّی میراثی اور اُس کے چند دوست باتیں کر رہے تھے کہ ولایت میں نائیوں کی بڑی چلتی ہے اور لوگ پہلے سے نمبر لگوا کر جاتے ہیں ٹیلی فون پر وقت دیا جاتا ہے اور پیسے بھی ڈالر ملتے ہیں۔،اور اُ س نے کہا کہ وہ یہ کام سیکھ کر باہر چلا جائے گااور نوٹ چھاپے گا۔اُس وقت تو بڑا رشک آیا اُس کی قسمت پر ۔۔چند دنوں بعد وہ واقعی نائیوں والا کام سیکھ رہا تھا ۔ایویں تجسس کے مارے یا خوشی میں ہم اُس کے پاس بال کٹوانے بیٹھ گئے۔بس پھر کیا تھا۔ نیم حکیم خطرہ جان ۔ ایسا ٹک لگایا موئے نے سر پر آج بھی نشان نہیں گیا۔بڑی پھر درگت بنی اُس کی۔غرض یہ کہ شہر اور دیہات دونوں میں اس پیشے کو اڈاپٹ کرنے والے بھی بہت سارے لوگ موجود ہیں۔
بات کہاں سے کہاں چل دی ۔۔نائی کی بات کرنی تھی۔۔۔جی ہاں ۔شہر کیا گاؤں کیا۔۔۔۔جس کے پاس بھی چلے جاؤ۔اُس کے پاس پورے مُحلے کی کہانیاں اور سی آئی ڈی سے بھی اندر کی خبریں موجود ہوں گی۔اور ان میں اسے اکثر کو اگر کہانی ہی سمجھا جائے تو بہتر ہو گا۔۔چلیں پہلے گاؤں والے کے بتاتا ہوں۔لئو جی چاچا نور اتفاقآ ہماری گلی سے گزرا میں چوک میں ہی کھڑا تھا میں نے چاچے کو آواز دی اور کہا چاچا ! ابو کہہ رہے تھے"جے چاچے نور نوں کدرے ویکھیں تے میرے کول گھلیں۔"چاچا نے کہا کہ مجھے پتہ ہے اُنہوں نے کیوں بُلایا ہے اور کہا کے صبح اپنے اوزار لے کر آئیں گے۔۔لو جی صبح ہوئی چاچا نور آ پہنچا اورپھرکافی دیر ابو! پورے پنڈ کی خبر یں سنتے رہے اور ساتھ ساتھ حجامت بھی کرواتے رہے۔چاچا شروع ہوا۔"ملک صاحب! اوہ چھبو میراثی نہیں جیہڑا ، اوہندی حرکت دا تہانوں پتہ لگا اے"ابو نے پوچھا"کیہہ ہویا چاچا ! خیر تے ہے؟"چاچے نے جواب دیا"کیہہ گل کر دے او ملک صاحب ! تہانوں اوہدے بارے کُج پتہ نہیں لگا۔اوہنے تے بڑی وڈی چول ماری اے"پھرابو نے پوچھا"کیہہ کر دتا ایہہ اوس "چاچا کہنے لگا"ملک صاحب! اوس چدھڑاں دی کُڑی نال لُک لُکا کے نکاح کر لیا اے!"۔ابو ہلکا سا مسکرائے اور کہنے لگے "تینوں ! کیہ ہو گیا اے چاچا! ۔ویسے مینوں ایہہ دس پئی تینوں ایہہ گل کس دسی اے!"چاچا حیران ہو کر کہنے لگا"ملک صاحب ! تسی ہسدے کیوں پئے اوہ تے ایہہ گل کوئی لُکی رہن آلی اے۔ "پھر چاچےنے اسی حیرانی کے عالم میں کہاکہ اُسے یہ بات پامی ملنگ نے بتائی تھی۔ابو پھر سے مُسکرا دئے اور کہنے لگے "چاچا! توں وی کمال کرنا ایں!ہُن تو ں پامی ملنگ دی گل سُنیں گا۔تے منیں گا۔"ابو نے بات کو جاری کرتے ہوئے کہا "نالے گل سُن تینوں پتہ اے پئی اُس کڑی دا پئو مر گیا اے تے اوہ جرا مریڑے نیں۔تے چھبو دا پیو آیا سی میرے کول کہ میرے مُنڈے لئی ایس کُڑی دا ہتھ منگ دیو ۔سانہوں کوئی داج دوج نہیں چاہیدا ۔تے میں کُڑی دا ماں کولوں تے اوہدے کولوں پچھ کے چار بندے تے مولوں ہوراں نوں لے گیا۔مولوی صاحب نے نکاح پڑھایا تے فیر ٹور ٹرا کرادتا۔۔"اور پھر نصیحتاََ کہا"تے چاچا! اِنج دیاں گلاں بغیر کسے تصدیق توں اگاں نہ ودھایا کر" چاچے نے سر ہلایا۔اب پتہ ابو کو بھی تھا اور چاچے کو بھی کہ باتیں آگے بڑھیں گی کہ نہیں۔
اور آج جب ہم بھی" ملک صاحب "ہوئے یعنی کہانیاں سننے لگے تو ہم نے خود کو ایک چھوٹے شہر میں ایک درمیانے درجے کے حمام پر پایا۔اور یہاں بھی کہانی جاری تھی۔ثاقب(حجام ) کچھ کہہ رہا تھا اور بار بار میری رائے لینا ضروری سمجھتا ۔بس ایک بار میں نے کہہ دیا"توں بولی جا ثاقب میں سُننا پیئا واں۔"یہ جملہ کہنے کی دیر ہوتی ہے ثاقب کی زبان قینچی سے بھی تیز شروع ہو جائے گی پھر مجھے نہیں معلوم دہی والے کی شان میں کیا قصیدے کہے گا اُس نے اور الیکشن کے بارے میں ؎بات کرے گا اور اسی طرح اور بھی کئی قصے چھیڑے گا ۔لیکن ایک بات ہے کہ میرا نمبر" ملک صاحب ملک صاحب" کر کے جلدی لگ جاتا ہے اور جان بھی جلدی چھوٹ جاتی ہے ۔

0 comments:

Post a Comment

Powered by Blogger.
.

Blog Archive

اشتہارات

Follow us on FaceBook

About

Popular Posts