Wednesday, 27 August 2014

بلاعُنوان از ظفری بھائی

میں نے اُس کو پہلی بار ایک تقریب میں دیکھا تھا ۔ وہ محفل کی تمام تر رعنائیوں سے بے خبر ایک گوشے میں ایک کُرسی پر گُم سُم سی بیٹھی تھی۔ پہلے تو میں یہ سمجھا کہ شاید وہ تقریب کا حصہ ہی نہیں ہے، مگر بعد میں اُس کی کچھ سہلیوں کو اُس سے گفتگو کرتے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ شاید وہ جان بُوجھ کر ہی اس محفل کو نظر انداز رہی ہے۔

محفل کے میزبان احمر سے خُدا حافظ کرتے ہوئے میری نظریں اچانک ہی اُس سے چار ہوگئیں ۔۔۔۔ مگر اُس کی نگاہ ہٹانے سے قبل ہی میں اپنے چہرے کا رُخ باہر جانے کے لئے کر چکا تھا ۔ وہ میری اُس سے پہلی “ملاقات“ تھی۔

یونی ورسٹی کے کفیے ٹیریا میں میں اپنے ایک دوست کا انتظارکر رہا تھا ۔ جب وہ مجھے دوسری بار نظر آئی ۔ اس بار وہ اپنی کسی سہیلی کے ساتھ تھی ، اتفاق سے وہ میری سامنے والی ٹیبل پر کچھ اس طرح بیٹھی کہ اُسکا چہرہ میری جانب ہی تھا۔ ہماری نگاہیں ایک بار پھر چار ہوئیں مگر اس بار میں نے اپنی نگاہوں کا زاویہ تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی اُس نے ضرورت محسوس کی۔ اُس کی آنکھوں میں پہلے سے ہی کچھ شناسائی جھانک رہی تھی ، شاید پہلی ملاقات میں اُس کی نظروں نے میری نگاہیں چُرانے کے باوجود بھی میرا تعاقب کیا تھا۔اُس کے ہونٹوں پر اُبھرتی ہوئی مسکراہٹ دیکھ کر مجھے بھی اخلاقا اُس کا ساتھ دینا پڑا۔ لیکن طارق کے آمد پر بات مُسکراہٹوں کے تبادلوں تک ہی محدود رہ گئ اور میں طارق کے ساتھ واپس اپنے ڈیپارنمٹ کی طرف جانے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا اور باہر جانے والے دروازے کی طرف بڑھ گیا ، مگر میں نے واضع طور پر اُس کی نگاہیں اپنی پشت پر صاف چُھبتی ہوئی محسوس کیں۔وہ میری اُس سے دوسری ملاقات تھی۔

لائیبریری میں آج مجھے کوئی کام نہیں تھا ۔۔۔۔ احمق انصار کو کچھ نوٹس دینے تھے اُس کا ہی انتطار کررہا تھا کہ اچانک وہ میری ساتھ والی چیئر پر آکر بیٹھ گئی۔ مجھے احساس تب ہوا جب میری سانسوں نے اُس کے لگائے ہوئے پرفیوم کی خوشبو کو محسوس کیا۔ میں نے اپنی دائیں جانب مڑ کر دیکھا تو وہ میری طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔مجھ سے نظریں ملتے ہی وہ مسکرا پڑی ۔۔۔ میں بھی مسکرا دیا ۔
مجھے لُبنیٰ ندیم کہتے ہیں
آخر وہ مجھ سے ہم کلام ہوئی
اور مجھے اشعر ۔۔۔ اشعرعلی شاہ
میں نے اپنا بھی تعارف کرایا
آپ کس ڈیپارنمٹ میں ہیں ؟
یہ اُس کا اگلا سوال تھا
میں اپلائیڈ فزکس میں ۔۔۔ اور آپ ؟
میں جنرنلزم ڈیپارنمٹ میں ہوں
میں نے سر ہلایا اور کہا ” گویا آپ ساری دُنیا کی خبر گیری کا ارادہ رکھتیں ہیں”
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی
مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ایک سرد اور خنک صبح میں ایک اُجلی سی دھوپ میرے وجود کا احاطہ کر رہی ہو۔
آپ نے بھی تو کتنا خشک مضمون لیا ہوا ہے ۔
ہاں یہ تو ہے ۔۔۔۔ میں بقول شاعر تاروں پر کمند ڈالنا چاہتا ہوں نا ۔۔۔۔ اس لیے یہ مضمون لیا ہے کہ کسی خلائی ادارے کے لیے کام کر سکوں۔
کیوں آپ تاروں پر کیوں کمند ڈالنا چاہتے ہیں ؟ ۔۔۔ کیا ہم نے زمین کے مسئلے حل کر لئے ۔۔۔۔ ؟
اُس نے مجھے لاجواب کردیا
جس طرح ہر مشین میں ایک میکنزم ہوتا ہے اور ہر میکنزم کے ہر پُرزے کا اپنا ایک الگ کام ہوتا ہے ، اسی طرح اس دنیا میں ہر کسی کو اُس کی صلاحیت کی مطابق کام کرنا ہوتا ہے جس کی جتنی استعاعت ہوتی ہے وہ اس کے مطابق ہی کام کرتا ہے ۔۔۔۔۔
میں نے اُسے قائل کرنے کی کوشش کی
ارے ۔۔۔ میں نے تو ایسے ہی ایک بات کہہ دی تھی ۔۔۔ میرا مقصد یہ نہیں تھا کہ آپ کوئی غلطی کر رہے ہیں ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ ایک بار پھر ہنس پڑی۔
اچھا میں اب چلتی ہوں ۔۔
وہ کھڑی ہوگئی تو میں بھی کھڑا ہوگیا
اچانک جاتے جاتے وہ پلٹی اور کہا
جو آپ کو نظرانداز نہ کرے تو کوشش کیا کریں کہ آپ بھی اُسے نظرانداز نہ کریں۔
اچھا ۔۔۔ پھر ملاقات ہوگی ۔۔۔۔ اللہ حافظ

مجھے احساس ہوگیا میری کسی بات نے اُس دن محفل میں گُم صم رہنے والی کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے۔ وہ کیا بات تھی ، مجھے اس کا علم نہیں تھا۔

وقت گذرنے کا ساتھ ساتھ ہماری ملاقاتوں میں ایک زور سا آگیا ۔۔۔اکثریونی ورسٹی میں ہی ملاقات ہونے لگیں تھیں ۔۔۔ میں نے ایک دو بار کبھی باہر کسی ریسٹورنٹ میں چائے یا ڈنر کی آفر بھی کی تو اُس نے انتہائی خوش اخلاقی سے ٹال دیا تو پھر میں نے کبھی زور نہیں دیا۔

میری اُس سے تقریباً دنیا کے ہر موضوع پر ہی گفتگو ہوتی تھی۔ وہ جرنلسٹ بننا چاہتی تھی ۔ دُنیا کے مسائل سب کے سامنے لا کر اُن کا حل تلاش کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ میں اُس کو اُن حقیقتوں کے بارے میں بتاتا رہتا تھا جو ان مسئلوں کے حل میں حائل ہوتیں تھیں ۔۔۔ میں سمجھاتا تھا کہ دنیا ایک قانون پر چل رہی ہے ۔ایک نظام ہے جو کہ وہ صرف ان مسئلوں کے حل میں دلچسپی رکھتا ہے جو اس نظام کو چلنے میں مدد دے ۔۔۔ مگر وہ میری بات اَن سُنی کر دیتی تھی۔

یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا ۔۔۔۔ آخر ملاقاتوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا کہ اب ہمیں اِدھر اُدھر پر بات کرنے پر کچھ اُکتاہٹ ہونے لگی تھی ۔ دل کے تقاضوں نے ایک عجب سے احساس کی طرف اپنا رُخ موڑ لیا تھا ۔ یعنی میں اور وہ اب ایک دوسرے کو چاہنے لگے تھے۔ اس سے پہلے کہ ہم محبت کے اس سُرور میں دنیا کی ہر حقیقت کو نظر انداز کردیں ، میں چاہتا تھا کہ میں اُس سے اُن حقیقتوں کا تذکرہ ضرور کروں کہ جو محبت کے ہر جذبے پر حاوی ہو کر اس کو بہا کر لے جا سکتا ہے ۔ میں نے تہیہ کر لیا کہ اگلی ملاقات پر اُس کو میں وہ سب کچھ بتاؤں گا جو کہ ایک حقیقت ہے ۔ ہر سچ ، ہر جھوٹ اور ہر وہ بات اپنے بارے میں ۔۔۔ جو بعد میں کہیں ، کسی پچھتاوے کا باعث نہ بن جائے اور نہ ہی میرے ضمیر پر کسی قسم کا بوجھ ۔۔۔ اسی لیے میں نے آج شام اُسے ایک ریسٹورینٹ میں بلایا تھا ۔۔۔مگر اس بار وہ خلاف ِ توقع یہ کہہ کر وہاں آنے پر آمادہ ہوگئی تھی کہ اشعر مجھے بھی آج تم سے بہت اہم بات کرنی ہے۔

میں اور وہ آمنے سامنے بیھٹے تھے ۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں بات شروع کرتا وہ پہلے ہی مجھ سے مخاطب ہوگئی
اشعر ۔۔۔۔ ! میں بہت دنوں سے کچھ کہنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔۔ مگر میری ہمت نہیں ہوتی ۔۔۔۔ مگر میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ یہ بات دل میں رکھ کر اپنی اور تمہارے جذبے کی توہین کروں۔ آپ مجھے پہلے نظر میں ہی بہت اچھے لگے تھے۔ پھر آپ کی گفتگو اور ایک خوبصورت دل نے مجھے آپ سے اور بھی قریب کردیا۔میں نے ہمیشہ ایک اچھے اور مخلص دوست کی خواہش کی تھی جو کہ ہو بہو آپ کی شکل ہے ۔۔۔

میں نے یہاں اُسے روکنے کی کوشش کی کہ اس سے پہلے وہ اظہارِ محبت کرے میں اُس کو بتاؤں کہ میرے اور اُس کی درمیان قسمت نےکس قسم آزمائش رکھی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ مگر اُس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔

مگر میں اب زیادہ دیر تک اس حقیقت کو چُھپا نہیں سکتی ۔۔۔۔ جو جذبے سچے ہیں اور جو اپنی شناخت کے علاوہ اپنی زندگی کی بقا کا بھی تقاضا کرتے ہیں ۔۔۔میں اُن سے مذید دھوکہ نہیں کر سکتی ۔۔۔

اس بار بھی میں نے اُسے روکنے کی کوشش کی مگر نہ جانے کس قوت نے مجھے روک دیا۔

میں سمجھتی تھی کہ میں دُنیا کے مسائل حل نہیں کرسکتی تو کم از کم اُنہیں دُنیا کے سامنے لا کر ان کے وجود کا احساس تو دلا سکتی ہوں مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ کبھی ایسا بھی ہوگا کہ میرا اپنا مسئلہ خود میرے لیئے بھی ناقابلِ حل ہوگا۔

مجھے احساس ہوگیا کہ وہ اپنی بات ختم کیئے بغیر نہیں رہے گی تو میں نے مداخلت کا خیال ذہن سے نکال دیا۔

میں یہ بھی سوچتی تھی کہ مرد اور عورت ہمیشہ ایک دوست بن کر بھی رہ سکتے ہیں ۔ مگر اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ مرد اور عورت ہمیشہ دوستی کے دائرے میں نہیں رہ سکتے۔ اس سے پہلے کہ میں اس کے دوستی رشتے کے تقدس کو کوئی گریز پہنچاؤں ، میں آپ کو بتلانا چاہتی ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ایک شادی شدہ لڑکی ہوں ۔۔۔۔ اُس نے قدرے توقف اس بات کا انکشاف کیا۔

مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے میرے کانوں کے پاس کوئی بم بلاسٹ کردیا ہو ۔۔۔۔ میں کچھ نہ سمجھنے ، سمجھانے کی پوزیشن میں آگیا۔

مجھے معلوم ہے کہ آپ پر یہ سُن کرآپ پر کیا گذر رہی ہے ۔۔۔۔ مگر میں اب مذید اس بات کو چھپا نہیں سکتی ۔۔۔۔ مجھے ہمیشہ آپ جیسے ہی شخصیت کی ہی خواہش رہی ۔۔۔۔ جو میرے انداز سے میری سوچ اور میری خواہشات کو سمجھ لے ۔۔۔۔ ہمار ے ہاں لڑکی کی شادیاں جلدی ہو جاتیں ہیں ۔۔۔۔۔ میری بھی ہوگئی ۔۔۔ مگر شادی سے پہلے کی اس شرط پر میں شادی کی بعد بھی اپنی پڑھائی جاری رکھوں گی اس لئے یہاں پڑھنے کے لئے آتی تھی (جو کہ اب نہیں آؤں گی) ۔

آپ مجھے ایک خواب سمجھ کر بھول جایئےگا ۔۔۔۔ میں نے آپ کا دل توڑا ہے ۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ آج آُپ مجھ سے کیا کہنے والے تھے ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ آپ اپنی محبت کا اظہار کرتے ۔۔ میں نے ہی آج اس تلخ حقیقت کو بیان کردیا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے ۔۔۔۔ مگر اگر ہوسکے تو معاف کردیجیئے گا۔
یہ کہہ کر وہ اُٹھ کھڑی ہوئی ۔

وہ کچھ دیر کھڑی رہی پھر ایک الواداعی نظرمیرے ہکا بکا چہرے پر ڈالی اور پھر وہاں چلی گئی۔

وہ میری اُس سے آخری ملاقات تھی۔

میں ایک ایسی کفییت میں بیٹھا رہا کہ جسے میں کوئی نام بھی نہیں دے سکا ۔۔۔۔ اگر اُس وقت میرے حواس کام کرتے تو میں بھی اُس کو یہ ضرور بتاتا کہ جو انکشاف وہ مجھ پر کرکے گئی ہے ۔۔۔۔ وہی انکشاف میں بھی اُس پر کرنے والا تھا یعنی کہ میں بھی ایک شادی شدہ شخص ہوں۔

ہم ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔اور نائی۔۔۔

تو چلیے جی بات کرنی تھی نائیوں کی جی ہاں انیس الرحمن بھائی کے محبوب ترین پیشے کی۔۔۔۔ویسے شہروں میں آ کر یہ لوگ حجام اور ہئیر ڈریسر اور اس طرح کے کئی نام سجائے دُکانوں میں بیٹھ گئے ہیں۔۔۔۔لیکن گاؤں میں آج بھی نائی گھروں میں ہی آ تے ہیں اور خوشی غمی پر کھانے بھی وہی پکاتے ہیں۔۔شہروں کا حساب اور ہے۔شیشوں اور برقی قمقوں سے چمکتی دُکانیں ، اند ر ٹی وی ، اے سی، اور یو پی ایس کے انتظام کے ساتھ بہت ہی شاندار قسم کی دُکانیں ہیں۔
تو ایسے میں یہ لوگوں کے گھروں میں جا کر تھوڑی نہ کھانا بنائیں گے سو اسی لئے یہ کاروبار بھی الگ ہوا چاہتا ۔۔۔اور آپ نے پکی پکائی اور تیارشدہ دیگوں کاتو پڑھا ہی ہوگا ہر دوسرے چوک میں ایسے کسی ایک آدھے بورڈ پر نظر پڑ ہی جاتی ہے۔۔
اس کاروبار کا ایک اہم نقطہ یہ ہےکہ جتنا بڑا اور مشہور شہر ، اُسی حساب سے اِ ن کی بھی فیس۔۔۔۔۔۔۔یعنی جو کام گاؤں میں مفت(کم از کم میرے لئے ) ہوتا تھا ۔قصبے میں بیس سے تیس روپے میں وہ بڑے شہروں میں سو سے لے کر ہزاروں روپوں تک میں ہو رہا ہے۔سو اس لئے کہا کہ بڑے شہروں میں بھی آپ کو ایک عمر رسیدہ شخص کسی درخت کے ساتھ شیشہ لٹکائے سامنے کرسی رکھے نظر آ ہی جاتا ہے۔۔
ایک اور بات یہ کہ جس قدر آبادی بڑھ رہی ہے اسی قدر نائیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔بالکہ اگر آبادی نہ بھی بڑھے تو بھی نائیوں میں اضافہ ہو۔چلو قصے تو بڑے سنانے آتے ہیں ناں ایک اور قصہ سُن لو دوستو۔بچپن ۔نرالا بچپن سبھی کچھ تو لاڈلا سا ہوتا تھا۔دوستوں کے ساتھ ادھر اُدھر کسی نہ کسی بیٹھک میں باتیں سُنتے رہنا ۔ قبرستاں کے پاس گاؤں کا واحد پرائمری اسکول ہے۔اُسی چوک میں دھنّی میراثی اور اُس کے چند دوست باتیں کر رہے تھے کہ ولایت میں نائیوں کی بڑی چلتی ہے اور لوگ پہلے سے نمبر لگوا کر جاتے ہیں ٹیلی فون پر وقت دیا جاتا ہے اور پیسے بھی ڈالر ملتے ہیں۔،اور اُ س نے کہا کہ وہ یہ کام سیکھ کر باہر چلا جائے گااور نوٹ چھاپے گا۔اُس وقت تو بڑا رشک آیا اُس کی قسمت پر ۔۔چند دنوں بعد وہ واقعی نائیوں والا کام سیکھ رہا تھا ۔ایویں تجسس کے مارے یا خوشی میں ہم اُس کے پاس بال کٹوانے بیٹھ گئے۔بس پھر کیا تھا۔ نیم حکیم خطرہ جان ۔ ایسا ٹک لگایا موئے نے سر پر آج بھی نشان نہیں گیا۔بڑی پھر درگت بنی اُس کی۔غرض یہ کہ شہر اور دیہات دونوں میں اس پیشے کو اڈاپٹ کرنے والے بھی بہت سارے لوگ موجود ہیں۔
بات کہاں سے کہاں چل دی ۔۔نائی کی بات کرنی تھی۔۔۔جی ہاں ۔شہر کیا گاؤں کیا۔۔۔۔جس کے پاس بھی چلے جاؤ۔اُس کے پاس پورے مُحلے کی کہانیاں اور سی آئی ڈی سے بھی اندر کی خبریں موجود ہوں گی۔اور ان میں اسے اکثر کو اگر کہانی ہی سمجھا جائے تو بہتر ہو گا۔۔چلیں پہلے گاؤں والے کے بتاتا ہوں۔لئو جی چاچا نور اتفاقآ ہماری گلی سے گزرا میں چوک میں ہی کھڑا تھا میں نے چاچے کو آواز دی اور کہا چاچا ! ابو کہہ رہے تھے"جے چاچے نور نوں کدرے ویکھیں تے میرے کول گھلیں۔"چاچا نے کہا کہ مجھے پتہ ہے اُنہوں نے کیوں بُلایا ہے اور کہا کے صبح اپنے اوزار لے کر آئیں گے۔۔لو جی صبح ہوئی چاچا نور آ پہنچا اورپھرکافی دیر ابو! پورے پنڈ کی خبر یں سنتے رہے اور ساتھ ساتھ حجامت بھی کرواتے رہے۔چاچا شروع ہوا۔"ملک صاحب! اوہ چھبو میراثی نہیں جیہڑا ، اوہندی حرکت دا تہانوں پتہ لگا اے"ابو نے پوچھا"کیہہ ہویا چاچا ! خیر تے ہے؟"چاچے نے جواب دیا"کیہہ گل کر دے او ملک صاحب ! تہانوں اوہدے بارے کُج پتہ نہیں لگا۔اوہنے تے بڑی وڈی چول ماری اے"پھرابو نے پوچھا"کیہہ کر دتا ایہہ اوس "چاچا کہنے لگا"ملک صاحب! اوس چدھڑاں دی کُڑی نال لُک لُکا کے نکاح کر لیا اے!"۔ابو ہلکا سا مسکرائے اور کہنے لگے "تینوں ! کیہ ہو گیا اے چاچا! ۔ویسے مینوں ایہہ دس پئی تینوں ایہہ گل کس دسی اے!"چاچا حیران ہو کر کہنے لگا"ملک صاحب ! تسی ہسدے کیوں پئے اوہ تے ایہہ گل کوئی لُکی رہن آلی اے۔ "پھر چاچےنے اسی حیرانی کے عالم میں کہاکہ اُسے یہ بات پامی ملنگ نے بتائی تھی۔ابو پھر سے مُسکرا دئے اور کہنے لگے "چاچا! توں وی کمال کرنا ایں!ہُن تو ں پامی ملنگ دی گل سُنیں گا۔تے منیں گا۔"ابو نے بات کو جاری کرتے ہوئے کہا "نالے گل سُن تینوں پتہ اے پئی اُس کڑی دا پئو مر گیا اے تے اوہ جرا مریڑے نیں۔تے چھبو دا پیو آیا سی میرے کول کہ میرے مُنڈے لئی ایس کُڑی دا ہتھ منگ دیو ۔سانہوں کوئی داج دوج نہیں چاہیدا ۔تے میں کُڑی دا ماں کولوں تے اوہدے کولوں پچھ کے چار بندے تے مولوں ہوراں نوں لے گیا۔مولوی صاحب نے نکاح پڑھایا تے فیر ٹور ٹرا کرادتا۔۔"اور پھر نصیحتاََ کہا"تے چاچا! اِنج دیاں گلاں بغیر کسے تصدیق توں اگاں نہ ودھایا کر" چاچے نے سر ہلایا۔اب پتہ ابو کو بھی تھا اور چاچے کو بھی کہ باتیں آگے بڑھیں گی کہ نہیں۔
اور آج جب ہم بھی" ملک صاحب "ہوئے یعنی کہانیاں سننے لگے تو ہم نے خود کو ایک چھوٹے شہر میں ایک درمیانے درجے کے حمام پر پایا۔اور یہاں بھی کہانی جاری تھی۔ثاقب(حجام ) کچھ کہہ رہا تھا اور بار بار میری رائے لینا ضروری سمجھتا ۔بس ایک بار میں نے کہہ دیا"توں بولی جا ثاقب میں سُننا پیئا واں۔"یہ جملہ کہنے کی دیر ہوتی ہے ثاقب کی زبان قینچی سے بھی تیز شروع ہو جائے گی پھر مجھے نہیں معلوم دہی والے کی شان میں کیا قصیدے کہے گا اُس نے اور الیکشن کے بارے میں ؎بات کرے گا اور اسی طرح اور بھی کئی قصے چھیڑے گا ۔لیکن ایک بات ہے کہ میرا نمبر" ملک صاحب ملک صاحب" کر کے جلدی لگ جاتا ہے اور جان بھی جلدی چھوٹ جاتی ہے ۔

غالب​: یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا ​

غزل
مرزا اسداللہ خاں غالب
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
تِرے وعدے پر جِئے ہم، تو یہ جان، جُھوٹ جانا
کہ خوشی سے مرنہ جاتے، اگراعتبار ہوتا
تِری نازُکی سے جانا کہ بندھا تھا عہدِ بُودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگراستوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نِیمکش کو
یہ خلِش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہےکہ، بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہوکہ، پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ جاں گُسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بُری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مرکے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بُو بھی ہوتی توکہیں دوچار ہوتا
یہ مسائلِ تصّوف، یہ ترا بیان، غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا
Powered by Blogger.
.

Blog Archive

اشتہارات

Follow us on FaceBook

About

Popular Posts